حاضر جوابی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حاضر جواب کا اسم کیفیت۔      "ان کی زکاوت اور حاضر جوابی کی بہت سی مثالیں ادب کی کتابوں میں موجود ہیں۔"     رجوع کریں:  حاضِرجَواب ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٠٧:٣ )

اشتقاق

یہ عربی زبان کے لفظ 'حاضر' کے ساتھ 'جواب' لگایا گیا ہے اور آخر پر 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٦٨ء کو "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" میں مستعمل پایا گیا۔

مثالیں

١ - حاضر جواب کا اسم کیفیت۔      "ان کی زکاوت اور حاضر جوابی کی بہت سی مثالیں ادب کی کتابوں میں موجود ہیں۔"     رجوع کریں:  حاضِرجَواب ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٠٧:٣ )

جنس: مؤنث